مقبوضہ یروشلم ، 16؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے’شاباک‘ کے حکام نے ملک میں پناہ گزین ایک ایرانی خاتون بلاگر ندیٰ امین کو ایرانی عہدیداروں سے مشکوک رابطوں کیالزام میں حراست میں لیا ہے اور اسے پوچھ گچھ کررہے ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ ندیٰ امین نے چند ماہ قبل اسرائیل میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔ اس نے دعویٰ کیاتھا کہ اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ اسرائیل آنے کے بعد اس نے ایرانی عہدیداروں سے بھی رابطے کیے جس کے بعد اسے تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا۔
اسرائیلی حکومت کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ندیٰ امین کو ایران سے ایسے لوگوں کی طرف سے بھی ٹیلیفون کالیں آتی ہیں جو نا تو اس کے خاندان کے ہیں اور نہ قریبی عزیز یا دوست ہیں۔اسرائیلی عہدیدرار نے ایرانی خاتون بلاگر کی گرفتاری کی ترید کی ہے اور کہا ہے کہ شاباک کے حکام اس کے ایران کے ساتھ مشکوک رابطوں پر تفتیش کررہے ہیں تاہم اسے حراست میں نہیں لیا گیا۔
خیال رہے کہ ترکی سے اسرائیل آنے والی ندیٰ امین کا دعویٰ ہے کہ اس کے والد یہودی اور ماں مسلمان ہیں تاہم وہ خود یہودیت پر ایمان رکھتی ہے۔اسرائیلی حکومت کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ ندیٰ امین رواں سال اگست میں ترکی سے اسرائیل آگئی تھیں۔ اسے ترک حکام کی جانب سے ایران کیحوالے کیے جانے کا خدشہ تھا اس لیے اس نے اسرائیل میں سیاسی پناہ حاصل کی ہے۔ندیٰ امین ترکی میں قیام کے دوران اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے لیے بلاگ لکھتی رہی ہے۔